میر کے ڈرامائی شعروں کی ایک خاص صفت، معلوم تاریخ میں پہلے سے رونما شدہ واقعات کی یادآوری ہے۔ ادب کی اس خاصیت کو میتھیو آرنلڈ نے Literature Reservoir کہا تھا۔ یعنی ہر بڑا فن پارہ، اپنی ندرت و بدعت کے باوجود، ماضی کے گراں قدر ذخیرے سے اخذ و اکتساب کرتا ہے۔ چاہے یہ استفادہ خفیف کنایے کی سطح ہی پر کیوں نہ ہو۔ شاید لسانی نفسیات دان کہیں، یادآوری کا یہ عمل، اصل میں قاری کے دماغ میں واقع پذیر ہوتا ہے نہ کہ شاعر کے کلام میں۔ لہذا اسے قاری کی علمیت پر محمول کرنا چاہیے۔ اس دلیل کا سادہ جواب یہ ہے، قاری کے دماغ کی مماثلت بھی کلام کے ممکنات اور جواز کاریوں کے باعث ہی رو بہ عمل ہوتی ہے۔ معروف ہے، شیفتہ کے ایک شاگرد، جو غالب کے کلام و تفہیم کے زیادہ قائل نہیں تھے، شیفتہ کے مشورے پر، غالب سے عرفی کے ایک شعر کا معنی دریافت کرنے پہنچے۔ غالب کا بیان کردہ مفہوم سن کر خوشی خوشی لوٹے، اور شیفتہ سے کہا، مرزا نوشہ نے ایسا معنی بیان کیا کہ خود عرفی کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو گا۔ شیفتہ کہنے لگے: اگر یہ مفہوم عرفی کے ذہن میں نہ تھا تو اس نے شعر کہہ کر سخت غلطی کی۔ شیفتہ کے قول کا مطلب یہی ہے، کلام کی تفہیم کا آخری امکان بھی اصل میں کلام ہی کا مال ہوتا ہے۔ یہ خیال سنسکرت کی علمی تہذیب میں عام تھا : شبدے برہمانڈم शब्दे ब्रह्माण्डम् ( کائنات لفظ و صوت کے اندر ہے)۔ ظاہر ہے، اردو کے کلاسیکی شعراء چاہے سنسکرت کے عالم نہ رہے ہوں، لیکن اس کے بنیادی اور اہم نظریات سے آگاہ ضرور ہوں گے۔ اوپر میں نے میر کے جن ڈرامائی اشعار کا ذکر کیا ہے، ان میں مقطعوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ خود میر کا تخلص اور اس کو برتنے کا ہنر ڈرامائیت سے خالی نہیں۔ اس بات کی یاددہانی غیر ضروری معلوم ہوتی ہے کہ میر کے معنی، سید زادے ہونے کے علاوہ، مردن کے فعل امر پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ سوز کا شعر سب کو یاد ہے (کہتے تھے پہلے میرؔ تب نہ ہوئے ہزار حیف / اب جو کہے ہیں سوز سوز یعنی سدا جلا کرو)۔ Literature Reservoir سے متعلق یہ لمبی چوڑی بحث مجھے میر کے دیوان سوم کے ایک مقطع سے یاد آئی، مقطع ملاحظہ ہو:
میر ہلکان ہو گیا تھا بہت
سو طلب ہی میں پھر ہلاک ہوا
شعر پڑھتے ہی مجھے عربی تاریخ کا واقعہ یاد آتا ہے۔ بنو عباس کے ایک خلیفہ (غالباً معتصم باللہ) کے بارے میں مشہور ہے (بحوالہ کتاب الحیوان از دمیری) : اسے ایک عرب شاعر سے ہمدردی ہو گئی، روز کسی حیلے بہانے سے اسے دربار میں بلاتا۔ شاعر طبعاً بزدل تھا، اپنے انجام اور بادشاہوں کی کج خیالی کو سوچ سوچ کے ہلکان رہتا۔ شاہی بلاوے کے آتے ہی، پریشانی اور تذبذب سے رنگ فق ہو جاتا۔ یہ کیفیت دوستوں سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔ لوگوں کے تعجب کے اظہار پر اس نے ایک عربی شعر پڑھا، جس کے معنی تھے: کیا تم نہیں دیکھتے، ہاتھوں پر چگائی گئی گھر کی مرغی کو اگلے ہی روز سیخ پر چڑھا کر بھون دیا جاتا ہے۔ ایک حکیم دوست نے، جسے روحانیات میں بھی درک تھا، شاعر کے خوف کے پیش نظر ایک سرمہ تیار کیا۔ سرمے کی خاصیت یہ تھی، جو شخص شاعر کو دیکھتا، اس کے رعب کا شکار ہو جاتا۔ قسمت کی خرابی سے ایک حاسد نے سرمے کی کی داستان کو بادشاہ کو بھی سنایا اور نمک مرچ ساتھ لگایا۔ قصہ کوتاہ یہی بات شاعر کے دربار میں قتل ہونے کا باعث بنی۔ میر کے شعر میں ہلکان سے ہلاکت تک کا سارا سفر گویا اسی کہانی میں پوشیدہ ہے۔ ہلاک ہونے کے لیے، بسا اوقات صرف ذہنی و فکری طور پر ہلکان ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہلکان اور ہلاکت میں تجنیس ہے، لیکن یاد رہے یہ دونوں قطعاً مختلف ہیں۔ ہلکان ترکی الاصل جب کہ ہلاک عربی سے مشتق ہے۔ اردو میں کبھی کبھی دونوں مترداف کے طور پر بھی برتے جاتے ہیں۔ میر کے شعر میں ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ ہلاکت، فوری واقعے کا نتیجہ ہونے کے علاوہ برسوں پرانی تھکن یا ہلکان ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ میر کے دور کو دیکھتے ہوئے، یہ خیال نہایت جدید معلوم ہوتا ہے۔ اٹھارویں کیا، انیسویں صدی تک لوگوں کا یہی خیال تھا کہ جسمانی و فکری اضمحلال فوری صدموں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ تصور کہ Trauma کے پس پشت سال ہا سال کی تھکن کار فرما ہوتی ہے، بیسویں صدی کے آخر میں عام ہونا شروع ہوا۔ میر نے اس طرح کے خیال مختلف جگہ باندھے ہیں مثلاً :
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
(دیوان اول)
اب یہ نظر پڑے ہے کہ برگشتہ وہ مژہ
کاوش کرے گی ٹک بھی تو سنبھلا نہ جائے گا
(دیوان سوم)
زیر بحث مقطع کی خوب صورتی شعر کا موت کے بعد کہا جانا بھی ہے۔ موت کے بعد کے احوال کو بیان کرنا کلاسیکی شعراء کی طرز عام ہے۔ اسے زندگی (یا عشق) سے بے پناہ لگاؤ کا مظہر سمجھنا چاہیے۔ ان شعروں پر (جن کی تعداد اچھی خاصی ہے) علیحدہ تفحص ہونا باقی ہے۔ آج نفسیات میں اس نوعیت کے علاج عام ہیں، جن میں مریضوں کو اپنی موت اور اس کے بعد کے واقعات پر سوچنے کی مہلت دے کر، اُنہیں کاغذ پر اتارنے کو کہا جاتا ہے (مثلاً Death Reflections)۔ جدید مغربی فلم میں بھی اس کا صرف عام ملتا ہے۔
میر کے شعر میں پہلے اور دوسرے مصرعے کے متکلمین بھی مختلف نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے، یہ دونوں مصرعے جنازہ پر آئے ہوئے لوگوں کی عام گفت گو یا Free talk ہو۔ یہ حیرت مزید ہے، کہ عاشق جو طلب ہی کا طالب ہوتا ہے، طلب پر کیوں کر ہلاک ہو گیا؟ مطلوبہ اور من چاہی چیز کا ڈھنگ سے نہ ملنا یا بے وقت ملنا بھی انسان کے لیے وبال جان ہوتا ہے۔ پہلا مصرع طویل اور شاید عمر بھر کے وقفے پر محیط انتظار کا عکاس ہے، جب کہ دوسرا مصرع اس بے انت انتظار کے بعد حاصل ہونے والا وہ نتیجہ ہے جو بے ثمر رہتا ہے۔ ہمارے دور میں اس حقیقت کا ادراک کر کے ایک سے ایک اچھا شعر نکالا گیا۔ فہمی بدایونی کا شعر دیکھیے :
اس کے ہونٹوں کو کیسے سمجھاؤں
اب میں باتوں کے بس کی بات نہیں
چھوٹی بحر کے ایک مقطع میں اتنا کچھ رکھنا ہی میر کو میر بناتا ہے۔ ”میر، سو، پھر“ : جیسے تین چھوٹے الفاظ کو رعایت کے ساتھ برتنا مزید اعجاز ہے،جس کی تفصیل میں جائے بغیر قاری کی ہوشیاری پر اعتماد کرنا دانائی ہے۔
ارسلان راٹھور

