فیڈریکو گارشیا لورکا سے میری پہلی شناسائی 2015ء میں ہوئی۔ ہمارے ایک دوست، لورکا کی شاعری پر ہسپانوی عربی شعراء کے اثرات، کی تحقیق میں مگن تھے، ہسپانوی اور عربی نہ جانتے تھے البتہ انگریزی خوب پڑھ رکھی تھی۔ نت نئی کتابیں، یہ مشکل مشکل نام! ہم نے بہ دقّتِ ہزار روسی ناموں کی عادت، جناب محمد سلیم الرحمٰن کا مضمون پڑھ کر ڈالی تھی، اب ہسپانوی کی کھکھیڑ شروع ہو گئی: اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔ روز کی بحثوں میں سلیویدر دالی، بونیول، لورکا اور کئی دوسرے ہنر مندوں کا ذکر آتا۔ میرے لیے یہ نام کسی قدر بدیع اور دل چسپ تھے۔ لُطف کی بات تھی، جتنے نام کان کی سرنگ میں اترے، ان میں سے سہل ترین لورکا کا تھا، بعد میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا: فیڈریکو گارسیا لورکا۔ قصہ کوتاہ، اُن کی دیکھا دیکھی، میں نے بھی لورکا کو پڑھنے کی ٹھانی۔ سوانح اور چند نظموں کا انتخاب جی سی کے کتاب خانے سے مل گیا، جویندہ یابندہ۔ اُن دنوں انٹرنیٹ عام نہ ہوا تھا۔ صحیح یا غلط، اپنے طور پر نظموں کی تفہیم کرنا پڑتی، جہاں معاملہ ہتھے سے اُکھڑتا، خرابی کا ذمہ انگریزی مترجم پر ڈال دیا جاتا۔ لورکا کی شاعری اور گیت تو ٹھیک، مجھے اس کے آخری دور (سیاسی قتل ہونے سے تقریباً دو سال پہلے) کا تخلیقِ ادب سے متعلق، دوئین دے (Duende) کا نظریہ بہت بھایا۔ دوئین دے پر بات کرنے سے پہلے، جان لینا ضروری ہے، لورکا کا تعلق ہسپانیہ کے بائیں بازو سے تھا، اسے اپنے انقلابی نظریات اور جنسی انحراف کی بنیاد پر اڑتیس سال کی عمر میں گولی مار دی گئی۔ لاش آج تک نہیں مل سکی۔ اس کی موت پر اس کے ساتھی شاعر، انتونیو مشادو نے شہرہ آفاق نظم لکھی، جس کا عنوان The crime was done in Granada ہے۔ حسن عسکری کو یہ نظم بہت پسند تھی، البتہ اس کے انگریزی ترجمے سے وہ مطمئن نہ تھے۔ خدا جانے، انھوں نے اسے ہسپانوی میں پڑھا تھا یا فرانسیسی میں۔ ان دنوں میں نے اس سادہ لیکن نہایت پر تاثیر نظم کو متعدد مرتبہ پڑھا۔ مجھے نظم کی آخری سطریں نہیں بھولتیں اور آج تک یاد ہیں۔ ایک شاعر اور رفیق کو اس سے بہترین خراج عقیدت کیا ہو سکتا تھا :
He was seen walking . . .
friends, let us make
a monument for the poet in the Alhambra
out of stone and dreams
above a fountain where the water grieves
and says to anyone who hears it:
the crime was done in Granada, in his Granada!

بہ ہر صورت، لورکا کی بنیادی سوانح اور دوئین دے، کے تصور پر میں نے تفصیلی مضمون لکھا۔ اُن دنوں زبان جدید علمی و فلسفیانہ اصطلاحوں سے لدی پُھندی تھی۔ جم کر لکھا اور قلم توڑ دیا۔
دوئین دے، ادب کی حالیت کی کیفیت (Presentness) سے متعلق ایک تصور ہے، جس نے یورپی معاشرے میں ادب کی تخلیق کے بارے میں میوز (Muses) اور اینجلز(Angels) کے محرکاتی (Stimulative) تصورات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ لورکا کے مطابق، بڑے اور اہم ادب میں ایک زمینیت سے مملو آزاد روی پائی جاتی ہے(ملحوظ رہے کہ لورکا کا یہ تصور اصلاً ہسپانوی موسیقی کے بارے میں ہے [صحرائی موسیقی جس میں آزادی و دل سوزی ہوتی ہے، اقبال کے مصرع سے زیادہ اس کیفیت کی عکاسی نہیں ہو سکتی : خاموشی و دل سوزی سرکاری و رعنائی])۔ ”دوئین دے“ کا لفظ ”دُوئینو دے کاسا“ سے نکلا ہے۔ سرل بھاشا میں اس کا مطلب ”گھر کا مالک“ ہے۔ یعنی، فن یا ادب، جذباتِ انسانی کا سب سے پہلا، محفوظ اور ارفع گھر ہوتا ہے۔ برنارڈ شاہ کا معروف جملہ ہے A book is my only home.
لورکا نے دوئین دے کے عناصر پر تفصیل سے بات کی ہے۔ یہ چار احساسات کا لطیف آمیزہ ہوتی ہے : اول، موت کے شعور سے روز افزوں آگاہی (A heightened Awareness of Death)، دوم زمینیت (Earthiness)، سوم غیر عقلیت (Irrationality) اور چہارم،جذباتی خلا کا وفور (A Dash of Diabolical) ۔ ظاہر ہے، یہ ایسے نکات نہیں، جنھیں سرسری گزارا جا سکے۔ میں نے ان پر تفصیل سے لکھا (قریباً تیس پینتیس صفحے) اور کلاسیکی اردو شاعری کو اس نظر سے دیکھنے کی سعی کی۔ دس سال پہلے لورکا کے نظریے یا تصور سے معاملہ کرتے ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا جو آج مزید پختہ ہو چکا ہے، کہ لورکا کی پیچیدگیاں، اپنی نہاد میں کم اثر انگیز ہیں، البتہ ترتیبِِ فکر انھیں قابل رشک بناتی ہے۔ یہ مغربی نظریہ سازوں کا خاص انداز اور سیکھنے کی چیز ہے۔ ظاہر ہے، اس سب کے پیچھے ان کی نتائجیت (Pragmatism) سے غیر مشروط محبت اور اخلاص شامل ہے۔
آج یہ ساری باتیں مجھے دی گارڈین کے تازہ مضمون سے یاد آئی ہیں، جو لورکا کی آٹھ مصرعوں پر مشتمل ایک نو دریافت نظم سے متعلق ہے۔ لورکا کی یہ نظم، ایک دوسری نظم کے ذاتی مخطوطے کے عقبی حصے پر لکھی ہوئی ملی ہے۔ کاغذ کی تاریخ، روشنائی کی تحقیق اور خط کے سواد سے ثابت ہوا ہے، تحریر خود لورکا کے ہاتھ کی ہے اور ترانوے برس پرانی ہے۔ نظم کی دریافت لورکا کے ماہر پیپا مارلو کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ مارلو، لورکا پر کئی سند یافتہ تحریروں کا مصنف ہے۔ یہ نظم پہلی مرتبہ اور شایان شان طور سے، اس سال کے اختتام تک، لورکا سے متعلق مارلو کی سوانحی کتاب میں آئے گی۔ نظم ملاحظہ ہو :
“The clock sings / I count the hours mechanically / Seven o’clock; twelve o’clock / It’s all the same / I am not here / It is the mark of flesh / That I left behind when I departed / So as to know my place / Upon my return.”
نظم کا ترجمہ غیر ضروری ہے۔ سادہ سی نظر آنے والی نظم کو It is the mark of flesh کی سطر معنی خیز بنا رہی ہے۔ میر کا شعر یاد آتا ہے :
رو چکا خونِ جگر سب اب جگر میں خوں کہاں
غم سے پانی ہو کے کب کا بہہ گیا میں ہوں کہاں
(دیوان سوم)
وقت سے نکل کر وقت میں دوبارہ مراجعت کی خواہش کیسی حسرت ناک ہے۔یہ مطلقاً نئی بات نہیں، ایسی باتیں بہت ہوئی ہیں، خود ہمارے ہاں بھی نئی پرانی شاعری میں وقت سے پلٹ کر آنے اور نہ آنے، ہر دو مضامین کو نئے نئے اسالیب سے باندھا گیا ہے۔ علی اکبر ناطق کی نسبتاً طویل نظم کے پہلے دو مصرعے یاد آ رہے ہیں:
اُٹھیں گے موت سے پہلے اسی سفر کے لیے
جسے حیات کے صدموں نے ملتوی نہ کیا
ناطق کی نظم میں جمالیات و مابعد الطبعیات کی کار فرمائی زیادہ ہے۔ لورکا نے بھی count the hours mechanically اور It is the mark of flesh کہہ کر پیچیدگی پیدا کی ہے۔ بہ ہر صورت ہشت سطری نظم کا بنیادی تصور وقت اور اس میں آگے پیچھے لے جانے والا سفر ہے۔
نقادوں کا کہنا ہے، شاید یہ نظم لورکا کے لیے اہم نہ رہی ہو، اسی لیے نظم کسی تحریر میں شامل نہ ہو پائی۔ قیاس کہتا ہے، یہ بات راجح ہے۔ لیکن ترانوے سال بعد نظم کے شاعر کے لیے اہم یا غیر اہم ہونے سے زیادہ ضروری، شاعر کی بالغ ذہنی کیفیات میں بنی بنائی آنے والی شعری کائنات کی ماہیت کو سمجھنا ہے۔ بہ قول مصحفی:
یہ رتبۂ مصحفی ہے جس کو
آتا ہے سخن بنا بنایا

یہ بھی سوچنے کی بات ہے، اگر نظم ایسی ہی غیر اہم تھی تو اسے تحریر میں کیوں لایا گیا۔ یہ بھی ہے، لورکا اپنی تحریروں کی زیادہ دیکھ ریکھ کرنے والا، منضبط آدمی نہ تھا۔ بہ ہر صورت میں نے جوں ہی گارڈین میں نظم کی بابت شذرہ پڑھا، دو خیال عود آئے۔ ایک حافظے کی تختی سے اُبھرا، دوسرا حسرت کے تختے پر کِھلا۔ پہلے حسرت کی سن لیجیے۔ ہمارے بھی کئی بڑے اور اہم کلاسیکی شعراء کے دواوین حالت غَیبت میں ہیں۔ کیا کبھی ان کی یافت ممکن ہو پائے گی؟ میر کے دیوان ہفتم کا قصہ (اور کسی حد تک کچا چھٹا) پرانا ہو چکا۔ لیکن درد، مصحفی اور داغ کے چوری شدہ دیوان کسی کونے کھردرے سے برآمد ہونے کا امکان موجود ہے؟ تھوڑا اور پیچھے جائیں تو یکرو، احسن اللہ احسن اور فائز کا کیا۔ نواب صدر الدین خان فائز (جن کا دیوان 1715ء کے لگ بھگ چھپا) عالم فاضل آدمی تھے. انھوں نے منطق اور نفسیات پر لا تعداد چھوٹے بڑے رسائل لکھے۔ اگرچہ اس وقت مغرب میں نفسیات کا نام و نشان تک نہ تھا۔ رسالۂ مالیخولیا کا قصہ تاریخی ہے۔ افسوس کہ اب یہ بھی نہیں ملتا۔ ( فائز تو خیر قصۂ پارینہ ہیں، ہمارے آپ کے مرزا ہادی رسوا کے درجنوں نفسیاتی و فلسفیانہ رسائل کیا ہوئے؟) کتنے اہم اور بڑے شعراء کا کلام فنا کے جبڑے میں ریزہ ہو چکا ہے۔
درد کا مروجہ دیوان بے حد مختصر ہے۔ عالی ہمت ایک دو اچھی اور جمی جمائی نشستوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن درد کے ضخیم دیوان کے بارے میں تین روایات ملتی ہیں: اول، درد نے خود، قوت تمیز کو کام میں لاتے ہوئے دیوان کو کم شکم بنایا، دوم درد کا دیوان ہنگاموں میں نذر آتش ہو گیا، سوم، ہنگاموں اور بھگدڑ میں درد کا دیوان کھو گیا۔ ان تینوں روایتوں کسی نہ کسی صورت میں پایا جانا ثابت کرتا ہے، ان میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور رہی ہو گی۔ مصحفی کے دیوان کے چوری ہونے کا قصہ عام ہے:
اے مصحفیؔ شاعر نہیں پورب میں ہوا میں
دلی میں بھی چوری مرا دیوان گیا ہے
اگرچہ مصحفی کی ہمت اس سے کھوٹی نہ ہوئی اور انھوں نے اتنا لکھا کہ پڑھنے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول
گئے۔ سودا کے معروف قصائد نصف سے زیادہ تاریخ میں گم ہیں۔ اور تو اور، ذوق جیسے سر آنکھوں پر بٹھائے جانے والے جگت استاد کا کلام ہمیشہ مشکوک رہا۔ سیکڑوں قصیدے کہے، ہزاروں شعر، لیکن کس قدر باقی رہے؟
ایسا نہیں کہ یہ واقعات صرف متوسطین تک پیش آئے، پریس کے منظر عام پر آ جانے کے بعد بھی یہی عالم رہا۔ میں نے مرحوم مظہر شیرانی صاحب سے ایک واقعہ سنا اور خیال کے سر کو پیٹ لیا۔ امیر مینائی نے نوابین اودھ کے لیے، تیرہ سو شعروں پر مشتمل ایک مثنوی لکھی تھی، جس کا ہر شعر، نوابی رَمنوں کے جانوروں اور پرندوں کی ستائش میں تھا۔ ظاہر ہے، آج اس مثنوی کا نام و نشان نہیں باقی نہیں۔ لکھنؤ کا علَم جس قدر بلند ہے، ادباء کا ستارا اسی حساب سے گردش میں رہا۔ دیوان گم، مزار غائب، سوانح مخفی۔ اوسط درجے کے شاعروں (اسیر اور غنیمت) کو چھوڑیے، میر و مصحفی کی لوح کا کنارا عنقا ہے۔ مان لیا، کہ غدر کی تباہی نے ہر شے پر گرد کی تہیں چڑھا دیں لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ میر کچھ خوش بخت تھے کہ انھیں مسعود حسن رضوی ادیب مل گئے۔ سٹہٹی میں، شام ڈھلے، ویران ٹیلوں کی خاک چھانتے، نشانِ میر، ڈھونڈھ لیا گیا، سیاہ پتھر جَڑ کر یادگار بنا لی گئی لیکن باقی کیا؟ شعراء و نثّار، لغت نویس و داستان طرّار! اردو والے کسی نئی شے کو کھودنا تو دور، پرانی اور موجود چیزوں کو مٹانے پر تُلے رہتے ہیں۔
میری حسرت ناکی دیکھیے، بے پَر کی اڑا رہا ہوں۔ شاعر اور ادیب چھوڑیے۔ تقسیم ہندوستان کے دوران اسی لاہور میں سامنے کی چیزیں ایسی غائب ہوئی ہیں کہ ڈھونڈے سے سراغ نہیں ملتا۔ ایسا نہیں کہ ان کا عنقا ہونا، انہونی بات ہے۔ نہیں لیکن کسی محقق و طالب کا کوہِ ندا کی طرف سفر نہ کرنا باعثِ تاسف ہے۔ مراد کا موتی اندر کے منیر شامی کی بے چینی کے بغیر کیوں کر ہاتھ ہاتھ آ سکتا ہے۔ حسن عسکری نے غصب کی اور قدرے منحرف بات لکھی ہے، جوانی میں انسان پختگی اور بالغ نظری کا انتظار کرنے میں وقت گنواتا ہے، پختگی آتی ہیں تو خود جذبوں پر اوس پڑ جاتی ہے:
بن جو کچھ بن سکے جوانی میں
رات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ
(میر)
بات یہ ہے،ادب ہو یا قوم، انسان ہو کہ معاشرہ، داخلی بے چینی اور کھوئے ہوؤں کی جستجو کے بغیر، مسافت بے کار ہے۔ ہمارے ہاں نہ صرف یہ کہ کام کرنے کی امید نہیں، کام کرنے والوں کے لیے بھی لاکھ مسائل ہیں۔ ایک دو برس پہلے محترم پروفیسر زاہد منیر عامر کی کتاب ”اکبر بنام اقبال“ منصۂ شہود پر آئی۔ قریب ایک صدی بعد منظر عام پر آنے والے اہم خطوط کا مجموعہ۔ اکبر جیسا نابغہ اور دانش ور، اقبال کی ذہنی تربیت کا سامان کر رہا ہے۔ بجائے کہ اس انتظام و انصرام کا خیر مقدم کیا جاتا، الٹی گنگا بہہ نکلی۔ یہ سوچنے کی زحمت نہ کی گئی، اس منصوبے میں دہائیوں کی کھنڈت کیوں پڑی رہی؟ اس نوع کے کام افراد سے بڑھ کر اداروں کے ہیں، یہ ضرور ہیں کہ ادارے افراد ہی سے تشکیل پاتے ہیں۔
اپنی تہذیب اور اس کے سینچنے والوں سے لگاؤ کی آخری داستان کا آغاز کرتا ہوں، جس کا وعدہ آغاز میں ہوا تھا۔ 2012ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ میں نفسیات کا طالب علم تھا۔ دوستیاں شاذ تھیں، مصروفیات قلیل۔ فرصت کے اوقات کتاب خانے میں گزرتے۔ ان دنوں مختلف عالمی ڈائجسٹ پڑھنے کا شوق چرایا تھا۔ پہروں ریڈر ڈائجسٹ کی ورق گردانی میں گزرتے۔ تازہ نمبر کے لیے تو ظاہر ہے، مہینوں انتظار کیا جاتا، لیکن پرانے نمبر کیا کم تھے۔ ایک دن 2004ء کا رسالہ کھولا (غالباً یہی سن تھا)۔ تین
چار رنگین صفحوں پر مشہور روسی افسانہ نگار چیخوف کی تصویریں تھیں، کچھ خوب صورت اور بشاش، چند مضمحل اور خون تھوکتی ہوئی۔ چیخوف کے بارے میں سب جانتے ہیں، اس کا انتقال جواں عمری میں تپ دق کے باعث ہوا۔ بیس برس کی عمر میں پھیپھڑوں میں ایسی دراڑ پڑی کہ دو دہائیوں بعد، ہوا کی گنجائی معدوم ہو کر دیوار ڈھے گئی۔ چیخوف کی زندگی کی آخری رات پر، ریمنڈ کاروَر نے شہرہ آفاق افسانہ Errand لکھ رکھا ہے۔ (اس افسانے کا اردو ترجمہ، اجمل کمال نے، خدمت، کے نام سے کیا ہے۔) کاروَر نے چیخوف کی طویل بیماری، شبِ آخریں اور مرگ و خاموشی کے احتشام کو جس طور سے افسانے میں متحجّر کیا ہے، اپنی مثال آپ ہے۔ ریڈر ڈائجسٹ میں روسی سائینس دانوں کی چیخوف سے متعلق ایک نئی دریافت کا ذکر تھا، جس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا جا رہا تھا۔ چیخوف، جیسا کہ عرض کیا چکا، تپ دق سے لڑ رہا تھا۔ روسی سائنس دانوں نے، عمومی خیال کے برخلاف نئی تحقیق کا ڈول ڈالا۔ افسانہ نگار کے آخری پہناوے (سوئیٹر) کو، جو روسی میوزیم کی زینت تھا، مستعار لے کر تحقیق کا آغاز کیا۔ مرنے سے کچھ دیر قبل چیخوف نے خون کی الٹی کی تھی، جس کا معتد بہ حصہ سوئیٹر پر جم گیا تھا۔ اسے عمومی طور پر، تپ دق کی آخری نشانی خیال کیا جاتا ہے۔ روسی سائنس دانوں نے سوئیٹر پر جمے ایک سو برس پرانے خون (چیخوف کا انتقال 1904ء میں ہوا تھا) سے دریافت کیا کہ بابلی طرز کے اس افسانہ نگار نے موت کی ہچکی تپ دق کی بجائے، دماغ کی شریان پھٹ جانے کے باعث لی۔ ظاہر ہے، یہ تحقیق لائق تحسین ہونے کے باوجود، نتیجہ خیز نہ تھی کہ نہ تو وقت کی باگ موڑی جا سکتی تھی نہ الٹی زقند لگانا ممکن تھا۔ لیکن جس طور سے پوری دنیا کے ادبیوں اور روسی حکومتی اہلکاروں نے اس تحقیق پر گرم جوشی کا اظہار کیا تھا، حیران کن تھا۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ بڑے لوگوں کی زندگیوں کو Celebrate، کیوں کر لیا جاتا ہے۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے مولانا آزاد کے ایک عاشق کو صرف اس بات پر پاگل قرار دیا گیا کہ اس غریب نے اندرون لاہور میں گوندنی کے ایک بوڑھے درخت کی نسبت یہ کہا تھا: مولوی آزاد حالتِ جنون میں پہروں اس کی چھاؤں میں بیٹھا کرتے تھے۔ ظاہر ہے یہ بات درست ہو یا نہ ہو، ہماری ادب اور ادیب بیزاری کا ظاہر کرتی ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ آزاد منزل میں کئی سالوں سے جوتوں کا چمڑا سکھایا جاتا اور اچار کی پھانکیں پھیلائی جاتی ہیں۔
اس سے نظر چرانا مشکل ہے۔
ایسی کئی مثالیں ہیں جن سے کلیجہ جلتا اور جگر گھنٹا ہے، سچ ہے :
دھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے،

