ایمیلی ڈکنسن کی نظم کا لاجواب ٹکڑا ہم سے اکثر کو حفظ ہے، Forever is composed of Nows.اس سے ملتی جلتی بات بورخیس نے بھی کی ہے: The world, unfortunately, is real۔ بات یہ ہے کوئی کتنا ہی ماضی پرست کیوں نہ ہو، جینا اسے حال ہی میں پڑتا ہے۔ حسن مانیے یا قبح، زندگی حال کے ڈھرے پر چلتی ہے۔ ماضی کی شاعری یا فن پاروں کی زمانۂ حال میں جواز کاری (Validity)، اسی نوع کی کارگزاری ہے۔ شاعروں کی زبان کا قدیم یا جدید ہونا، اضافی قدر ہے۔ غالب ہم سے پونے دو سو برس کے فاصلے پر بھی جدید ہے، اس کے علی الرغم ہمارے عہد کے کئی لکھنے والے آس پاس ہوتے ہوئے بھی میلوں دور دکھائی دیتے ہیں:
اُن کی گلی کا راستہ طرفہ طلسم ناز ہے
دور سے پاس پاس سا پاس سے دور دور سا

یہ ساری تمہید مجھے غالب کے چہیتے اور ہر دل عزیز شاگرد، میر مہدی حسین مجروح کے پر نانا (یا پردادا) میر فقیر اللہ فقیر کو یاد کرتے ہوئے باندھنا پڑ رہی ہے۔ مجروح اور غالب کی محبت و التفات اور بے تکلفی پر کچھ بھی لکھنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مجروح کے والد میر فگار دہلوی معروف شاعر تھے۔ فگار کا شمار بھی غالب کے شاگردوں میں ہوتا ہیں۔ فگار کی قلمی بیاض کو (جو پنجاب یونیورسٹی کی مملوکہ ہے)، مرحوم اکرام چغتائی نے 1968ء میں ادارۂ کتابیات لاہور سے چھاپا تھا۔ تذکرہ نگاروں نے فگار (والد مجروح) کے لیے، فقیر اللہ فقیر کے نبیرہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ نبیرہ، ظاہر ہے پوتے اور نواسے دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس پہلو کو مجروح کے محقیقین، سید افسر رضا، ریاض احمد اور محمد فیروز نے فیصل نہیں کیا۔ مجھے اس مختصر تحریر میں فقیر اللہ فقیر کے مجروح کے پر دادا یا پر نانا ہونے سے غرض کم ہے۔ یہ بات البتہ محقیقین کے لیے اہم ہے، (ہونی بھی چاہیے) شاید میری تحریر سے تشویق پا کر کوئی تَر دماغ محقق اس طرف متوجہ ہو۔ میرا مقصد فقیر اللہ فقیر کے دو تین صاف شعروں کو پیش کرنا ہے، جن میں حیرت انگیز طور پر جدید دنیا کی ہماہمی اور اپنے عہد سے متعلق چند ضروری سوالات در آئے ہیں۔ فگار کو تذکرہ نگاروں نے شیفتہ کا ہم عصر لکھا ہے اور ان کی وفات کو 1855ء کے آس پاس کا واقعہ قرار دیا ہے۔ فقیر اللہ فقیر، فگار کے پر نانا یا پر دادا ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق فقیر کی پیدائش 1760ء کے لگ بھگ رہی ہو گی۔ 1776ء کچھ ایسا قدیم بھی نہیں، میر و سودا اور سوز و درد بقید حیات تھے۔ اردو غزل کا سنہری دور تشکیل پا رہا تھا۔ لیکن میر صاحب کے ڈھائی یا پونے تین شاعروں کو (جن میں سے حسبِ منشاء دو ہی تھے) چھوڑ کر سبھی شعراء میں ابھی میر و درد جیسی روانی پیدا نہ ہوئی تھی۔ روانی کے بارے میں سمجھنے کی بات یہ ہے، اسے ہمارے اساتذہ نے شاعری کی بنیادی چار شرائط میں سے ایک قرار دیا ہے۔ فقیر کے کلام کی روانی معنی آفرینی سے لبریز ہے۔ شعر ملاحظہ ہوں :
وہ حسن صندلی نظر آوے اگر مجھے
دونوں جہاں کا پھر نہ رہے درد سر مجھے
صافی دلوں کی دید کو مانع نہ ہو حجاب
عینک سے ہو دو چند نظر پر نظر مجھے
پہلے شعر کا موضوع نیا نہیں ہے۔ لیکن دونوں مصرعوں کی صفائی لائق رشک ہے۔ میر کا شعر یاد آتا ہے:
نکلے ہے صبح بھی یاں صندل ملے جبیں کو
عالم میں کام کس کا بے درد سر بنے ہے
(دیوان دوم)
میر نے بات کو شخصی حوالے سے اٹھا کر آفاقی کینوس پر پھیلا دیا ہے۔ اس پھیلاؤ میں شخصی آنچ ٹھنڈی نہیں پڑی، یہی میر کا کارنامہ ہے۔ البتہ فقیر کا دوسرا شعر جدید حد تک حیرت انگیز ہے۔ میرے علم میں نہیں، ان سے پہلے اردو شعر میں کسی نے عینک کو برتا ہو۔ میر اور مصحفی کو نئے نئے لفظوں کو برتنے کی زَڑ رہتی ہے۔ لیکن یہ لفظ ان کے ہاں بھی موجود نہیں (کم سے کم میرے حافظے میں محفوظ نہیں)۔ یہ ثقافتی سوال اپنے تیئں اہم ہے، کیا انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر میں عینک رواج پا چکی تھی؟ عدسوں کا ذکر البتہ ملتا ہے، جنھیں ہاتھ میں تھام کر صفحے یا تحریر کو آنکا جاتا تھا۔ فقیر و میر سے بہت بعد میں، رجب علی بیگ سرور نے ڈھلتی نظر کے لیے دستی عدسوں کے استعمال کا ذکر کیا ہے (سرور کی بینائی آخری سالوں میں تیزی سے کم ہو چلی تھی)۔ خود سرور کے عظیم معاصر میر انیس کی بینائی کا حال بھی معلوم ہے۔ آخری مہینوں میں ایک ایک صفحے پر جلی لفظوں پر محیط محض ایک مصرع لکھا جاتا تھا تاکہ منبر پر پڑھتے ہوئے دشواری نہ ہو۔ انیس کے سوانح نگاروں نے عینک کے استعمال کا ذکر نہیں کیا۔
یہ تو فقیر کے شعر میں لفظ عینک کے بدیع ہونے کا تذکرہ ہے، بالفرض اگر عینک موجود بھی رہی ہو تو اس لفظ کے استعمال سے یہ نکتہ نکالنا نادر ہے کہ ایک نظر پر دوسری نظر، حجاب ڈالنے کی بجائے منظر میں صراحت و وضاحت پیدا کر رہی ہے (نظر کا لفظ کیسا قرین قیاس ہے!)۔ دو چند بھی عمدہ بیٹھا ہے۔ پہلے مصرع میں دعویٰ کا آنا ناسخ و غالب کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ شعر ہر حوالے سے کامیاب بل کہ تازہ کار ہے۔ کیا خبر غالب نے اپنا معروف و فلسفیانہ شعر کی بنیاد شاگرد کے پر نانا سے اٹھائی ہو :
نظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کا
مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
فقیر اللہ فقیر کا تیسرا شعر دیکھیے :
بیٹھے ہی بیٹھے ہستی کو کیا اپنی فنا
جوں شمع ہے وطن میں ہمیشہ سفر مجھے
ظاہر ہے، یہ بھی علت و معلول (Cause and Effect) کے ارتباط کا شعر ہے۔ مجھے اس شعر نے دو حوالوں سے چونکایا۔ اول اسے پڑھتے ہی مشہور انگریزی ڈرامہ نویس برنارڈ شاہ کی یاد آئی۔ برنارڈ شاہ نے اپنے سوانحی حالات میں رشتے کے ایک چچا کا ذکر کیا ہے، جو بیٹھے بیٹھے از خود (While sitting by himself) ، اپنا سانس روکنے کی مشق کرتے تھے۔ بالآخر اسی کہنہ مشقی کے باعث وہ خاموش خود کشی میں کامیاب ہوئے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ یہ قصہ برائے گفتن خوب است کی ذیل کا ہے۔ شعر کا اصل خیال کہ شمع سفر بھی کرتی ہے اور عمومی تعریف میں متحرک نہیں ہوتی، خاصا سائنسی ہے۔ سائنس میں عام حقیقت ہے، کام (Work) اسی صورت میں طے پاتا ہے، جب اس کے لیے فاصلہ (Distance) طے کیا جائے۔ شمع بیٹھے بیٹھے سفر میں بھی ہے اور حضر میں بھی اور یہی حاصل حیات ہے۔ بیٹھنے میں شمع کے گھلنے کا کنایہ تو ہے ہی؛ بے سبب، اہم اور نتیجہ خیز کام کا اچانک اور سوچے سمجھے بغیر آغاز بھی ہے۔ کافکا نے یوں ہی نہیں کہا تھا، زندگی بہ یک وقت اہم ترین اور لغو سرگرمی ہے۔ فقیر کے شعر سے ذوالفقار عادل کا حرکت انگیز شعر یاد آتا ہے :
گھٹتے بڑھتے سائے سے عادل لطف اٹھایا سارا دن
آنگن کی دیوار پہ بیٹھ کے ہم نے خوب سواری کی
دونوں شعروں کا فرق قدیم و جدید علامت کا ہے، ورنہ خیال ایک ہے۔ ذوالفقار عادل کے شعر کو روزمرہ کے عام مشاہدے سے اٹھایا گیا ہے۔ فقیر کا شعر ہمارے رسمیاتی مضامین کی ایک کا ہے۔ رسمیاتی مضامین میں سے نیا پہلو نکالنا بے حد مشکل عمل ہے جب کہ عجزِ کلام (Elliptical verse) کا شائبہ تک نہ ہو۔ فقیر کا اس خیال کو ڈھائی پونے تین سو برس پہلے پا لینا اردو شعراء کی مضمون آفرینی کی معراج ہے۔

