محاورے زندگی سے خالی نہیں ہوتے، ان میں بزرگوں کا تجربہ ساق ساق بھرا ہوتا ہے۔ ہم سب نے سن رکھا ہے، آنکھ اوجھل پہاڑ، لیکن ماننے میں سستی کرتے ہیں۔ حالاں کہ، اس سے زیادہ راستی کی بات شاید ہی کوئی ہو۔ سامنے کی چیزیں پَل بھر میں دھندلانے لگتی ہیں۔ سارا قصہ یہ ہے، کہ تارِ نظر کہاں بندھا ہے۔ منظر اوجھل ہوتے ہی، سفینے ڈوبنے اور سمندر اُوبنے لگتا ہے۔ شہزاد احمد مرحوم کا بے مثال شعر ہے :
آنکھ اٹھا کے میری سمت اہل نظر نہ دیکھ پائے
آنکھ نہ ہو تو کس قدر سہل ہے دیکھنا مجھے

ایک دِقت اور بھی ہے۔ بعضے منظر نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے، لیکن نظروں کے مرکزے بدل جاتے ہیں۔ یوں کہیے ترجیحات کی کایا کلپ ہو جاتی ہے۔ جوسٹن گارڈر نے لکھا ہے، ہم بڑھتی عمر کے ساتھ درختوں کو دیکھنا اور ان کی وسعت پر حیران ہونا چھوڑ دیتے ہیں، کیوں کہ ہمارے اندر حیرت کے خلیوں کو زنگ لگنے لگتا ہے اور ہم گِھسی پٹی زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ گویا سارا جرم، اسی، عادی ہونے (To get habitual) کا ہے۔
یہ ساری تفصیل مجھے گورنمنٹ کالج (لاہور ) کے تاریخی اور مرکزی دروازے کے لیے باندھنی پڑ رہی ہے، جو ہم سب کے سامنے ہے اور سب سے اوجھل ہے۔ عالم یہ ہے، آج کوئی اس تاریخی دروازے کے بارے میں پوچھے تو ہم سب خاموشی لپیٹ کر بیٹھ جائیں گے۔ کون سا دروازہ، کیسا دروازہ، چلیے تفصیل کی راہ لیتے ہیں۔
ہمارے علم میں ہے، گوتھک طرز تعمیر کی حامل جی سی لاہور کی موجودہ عمارت 1876ء میں بن کر تیار ہوئی۔ عمارت کے بلند و پست، معروف انگریز طرّاح (Architect)، سر جیسپر پرڈن کلارک (Sir Caspar Purdon Clarke) [1846ء تا 1911ء] کی ہنر مندی کے مرہون منت ہیں۔ 1876ء میں یہ علاقہ کھلا میدان تھا۔ پرانے دنوں کی تین بیرکیں تھیں۔ ایک بیرک میں لاہور میڈیکل سکول (موجودہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی) کی باقیات تھیں جب کہ بقیہ دو فوجی ڈپو کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ جنوب میں گول باغ کی وسعت منہ کھولے میناروں کو دیکھتی تھی۔ پہلو میں مال روڈ لیٹی رہتی تھی۔ مال روڈ بھی کہنے کو، اس واسطے کہ 1898ء تک جی سی اور میو کالج آف آرٹس کے سامنے کا ٹکڑا، مٹی اور گرد کا تختہ تھا۔
اُن دنوں کوئی خطرہ یا مسئلہ نہ ہوتا تھا، لہذا بہت سالوں تک کالج کی بیرونی دیوار اور مرکزی دروازے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ پورب سے آئیے چاہے پچھم سے۔ اقبال کے لفظوں میں:
قدم بے باک تر نِہ در حریم جان مشتاقاں
تو صاحب خانۂ آخر چرا دزدانہ می آئی
(اپنے چاہنے والوں کے دل میں بے باکی سے قدم رکھ کر آؤ، یہ تمہارا ہی گھر ہے، چوری چھپے آنے کا فائدہ)
کالج کے تعمیر ہونے کے لگ بھگ ستائیس برس بعد 1903ء میں، بلدیہ کے زور دینے پر، کالج کی اردگرد چار دیواری اور دروازہ تعمیر ہوا۔ یہ جی سی کا اولین دروازہ تھا۔ ان دنوں کالج کے پرنسپل ایس رابسن تھے۔
ہنر کا نکتہ دیکھیے، یہ دروازہ عمومی روش کے بر خلاف، کالج کے جنوب میں ترچھے رُخ پر کھولا گیا ہے۔ یعنی دروازہ کھولیے اور جنوب مغرب کے منظروں کو آنکھ میں اتار لیجیے۔ برطانوی ماہرین، ترچھی اور سمتوں کے بین بین کی روکاروں (Fronts) کے دل دادہ تھے۔ مال روڈ پر جی پی او کی مرکزی عمارت اور اس کی روکار ترچھی سمت کی عمدہ مثال ہے۔

دروازے کے دائیں بائیں دونوں ستون پتلی اور پرانی سرخ اینٹوں سے بنائے گئے ہیں۔ ستونوں میں تہ در تہ باریکیاں ہیں۔ بنیاد کی کرسی تقریباً چار فٹ اونچی اور ساڑھے پانچ فٹ چوڑی اور نسبتاً زیادہ گھیر والی ہے۔ کرسی پر کٹیلے اُبھار ہیں۔ اس کے بعد ستون کی کمر آتی ہے۔ یہ حصہ طرح طرح کے خطوں اور اینٹوں سے تراشے گئے کناروں سے مزین ہے۔ ستون کا آخری حصہ بتدریج تنگ ہوتا جاتا ہے۔ جس کے ماتھے پر، جھومر کی صورت میں جی سی کی مرکزی علامت کھدی ہے۔ دونوں ستونوں کی یہ علامت کم سے کم ڈھائی فٹ لمبی اور اتنی ہی چوڑی ہے۔ علامتِ اشارہ سے اوپر نوکیلی تکون ہے۔
دونوں ستون سترہ فٹ اونچے اور ساڑھے چار فٹ چوڑے ہیں۔ دروازے کا محیط پندرہ قدم ہے۔ جو اُن دنوں کے حساب سے خاصا ہے۔ قیاس کہتا ہے ابتدا میں دروازہ لکڑی کا رہا ہو گا۔
منٹو نے اپنے معروف افسانے ”نیا قانون“ میں گورنمنٹ کالج کے جن طلباء کو کالج کے دروازے سے نکلتے دکھایا ہے، وہ یہی ہے۔ ستونوں کی سنگینی اور مضبوطی محاورہ ہے۔ ایک سو تیئس برس گزرنے کے بعد بھی، کوئی حصہ شکستہ نہیں ہوا۔ البتہ کہیں کہیں اینٹوں میں دراڑیں در آئیں ہیں۔ ایک دستیاب قدیمی تصویر کے مطابق اس دروازے کی جگہ پستہ قامت سلاخوں والا سفید دروازہ تھا، جس کے دونوں اطراف پھولوں کی باڑیں تھیں۔ آس پاس کا منظر شفاف و منزہ تھا۔
معروف سماجی شخصیت اور لاہور کے پارکھ، کرنل محمد سلیم (جن کی عمر سو سے متجاوز ہے) کا کہنا ہے:
چالیس کی دہائی کے آغاز میں، اسی دروازے سے گزر کر، بذریعہ سائیکل اپنے دوست کو جی سی چھوڑنے جاتا تھے۔ اُن دنوں سائیکل کے لیے یہ چڑھائی کافی تھی۔ سانس پھولنے لگتی۔ چڑھائی کے فوراً بعد سائیکل اسٹینڈ آتا۔ جس سے چند قدم کے فاصلے پر کالج کی معروف بار واقع تھی۔ ڈینکلیف مِلک بار کا ایک گلاس ٹھنڈا یا گرم (حسب دل خواہ) خالص دودھ چاک و چوبند کر دیتا۔ دودھ کا ایک گلاس دو پیسے میں ملتا۔
گورنمنٹ کالج کے اسی دروازے کے ذرا پہلے کچہری کے سامنے لاہور کا مرکزی سنگِ میل واقع تھا۔ انگریزی میں اسے Mile stone یا Mile Marker کہا جاتا ہے۔ انگریز دور میں شہروں کی مرکزی شاہراہوں پر سنگِ میل نصب کیے جاتے تھے۔ ہر شہر کی کچہری کو صدر مقام مان کر فاصلوں کے پتھر گاڑے گئے۔ یہ پتھر عموماً سہ سمتی ہوتے تھے۔ پتھر کے تینوں اطراف کوس و فرلانگ کے اعداد کُھدے ہوتے تھے۔

لاہور کا مرکزی پتھر جی سی کے جنوبی دروازے کی طرف، کچہری کے سامنے گاڑا گیا۔ شاہد حمید نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے : میٹرو بننے سے پہلے تک یہ پتھر موجود تھا۔ 1901ء میں نصب کیے جانے والے اس پتھر کی جنوبی سمت میں ناگر رائے کی مشہور دکان واقع تھی۔
پرانی کتابوں کی یہ دکان گورنمنٹ کالج کے طلباء و اساتذہ کا تکیہ تھی۔ گورنمنٹ کالج کے معروف استاد اور عالِم روچی رام ساہنی گاہے گاہے یہاں عوامی لیکچر دیا کرتے تھے۔
لوگوں کا جمِ غفیر اکٹھا ہو جاتا۔ سہنی صاحب پنجابی اور انگریزی میں سائنسی و عوامی خطبوں کے لیے مقبول تھے۔ اس دکان پر بیٹھنے والے معروف لوگوں میں، کنہیا لال کپور اور ماسٹر امر ناتھ شامل تھے۔
روچی رام ساہنی کی وسیع و عریض حویلی بھی قریب ہی واقع تھی۔ اسی حویلی میں انھوں نے فزکس اور کیمسٹری کی کتابوں پر مشتمل کتاب خانہ قائم کیا۔ یہ لاہور کا پہلا سائنسی کتاب خانہ تھا۔
روچی رام سہنی نے لکھا ہے ، "میں نے تیس سال متواتر اپنی تنخواہ میں سے پندرہ روپے سائنس کے کتابیں خریدنے کے لیے مختص کیے رکھے.”
ان دنوں (1918ء) کالج کے پرنسپل کی رہائش گاہ بھی لوئر مال پر واقع تھی۔
آج میل کا پتھر باقی ہے نہ ساہنی کی حویلی، دکان ہے نہ گھر ۔ البتہ دروازہ وہیں کھڑا ہے۔
نہ سنگِ میل نہ نقشِ قدم نہ بانگ جرس
بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے
(یگانہ

