لاہور کی علمی تاریخ میں دل چسپی رکھنے والے آگاہ ہیں کہ شمالی ہندوستان کی پہلی طِبّی درس گاہ، جسے دنیا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے نام سے جانتی ہے، کا اولین نام، لاہور میڈیکل اسکول (1860ء) تھا۔ یہ میڈیکل اسکول موجودہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شمال میں واقع پرانی بیرک میں قائم ہوا، جسے بعد ازاں 1886ء میں لاہور میڈیکل کالج کا درجہ دے دیا گیا۔ 1911ء میں میڈیکل کالج کا نام، کنگ ایڈورڈ ہفتم (م: 1910ء) کی یاد میں، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج رکھ دیا گیا۔ لیکن نام کی تبدیلی صرف میڈیکل کالج ہی کا قصہ نہیں۔
اس سے ملتی جلتی ایک کہانی گورنمنٹ کالج لاہور (1864ء) کی بھی ہے، جس کے نام کی عمومیت سے بیزار ہو کر، 1914ء میں کچھ طلباء نے اسے بدلنے کی ایک مہم کا آغاز کیا۔
آج اس داستان کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
نام کی تبدیلی کی یہ ساری بحث گورنمنٹ کالج لاہور کے تاریخی رسالے راوی میں ملتی ہے۔ مارچ 1914ء کے اداریے میں مدیر گرو دت کور (GDK) کے قلم کی تفصیلات ملتی ہیں۔ اداریے کے مطابق، تبدیلی کی مہم ایسی شدت اختیار کر گئی کہ طلباء واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم نظر آتے تھے۔ مدیر نے سہولت کی خاطر طلباء کے دو گروہوں کو قدامت پسند (Conservative) اور جدت پسند (Radicals) کے نام سے یاد کیا ہے۔ قدامت پسند طلباء کے مطابق، کالج کے نام سے فارغ التحصیل طالب علموں کی وابستگی برسوں پرانا قصہ ہے۔ کسی بھی نوع کی تبدیلی ان کے لیے جذباتی صدمہ ثابت ہو گی۔ اس کے برعکس، جدت پسند طلباء ادارے کے نام میں گورنمنٹ کے عمومی لفظ کو، کنگز (King’s) سے بدلنے کے خواہاں تھے۔ یعنی ان کے مطابق ادارے کا نیا نام : کنگز کالج لاہور، (King’s College Lahore) ہونا چاہیے تھا۔

جدت پسند طلباء کو یہ نام کیوں سوجھا تھا، اداریے میں اس کا مطلق ذکر نہیں ملتا۔ واضح ہے، انگریزی میں گورنمنٹ اور کنگز کے الفاظ مترادف نہیں ہیں۔ دونوں کے معانی اور سیاسی کنایوں میں خاصا فرق ہے۔ (شاید اس کے پیچھے بھی کنگ ایڈورڈ کے مرنے کی روایت ہی ہو۔) اداریے کے مطابق نام کی تبدیلی کا یہ فیصلہ اعلیٰ حکام (Higher Authorities) کے ہاتھ میں تھا۔ یہ جملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ محض طلباء یا یونین کی خواہش تک محدود نہ تھا۔ بل کہ اسے خاص و عام میں خاصی شہرت حاصل ہو چلی تھی۔ 1914ء میں کالج کے پرنسپل کرنل سٹیفنسن (1912ء تا 1919ء) تھے۔ سٹیفنسن حیاتیات کے مایہ ناز سائنس دان ہونے کے علاوہ، عربی اور فارسی کے معروف اور پختہ کار عالم (Ripe Scholar) تھے۔ یقیناً کالج کے نام میں اس باریک تبدیلی کو انھوں نے لسانی مہارت سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی۔ ملحوظ رہے سٹیفنسن، گورنمٹ کالج لاہور سے مستعفی ہونے کے بعد ایڈن برگ یونی ورسٹی سے منسلک رہے۔
پروفیسر ایچ ایل او گیرٹ نے اپنی تاریخ میں اس بحث کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی ممکنہ طور پر دو وجوہات ہیں۔ اول، گیریٹ کی تاریخ 1914ء تک کو محیط ہے۔ اگرچہ اس میں پانچ صفحات پر مشتمل ایک ضمیمہ بھی ہے، جس میں 1914ء کے بعد کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے لیکن تاریخِ اشاعت 1914ء درج ہے۔ ہو سکتا ہے نام کی تبدیلی کی خواہش کا واقعہ، اشاعت کے بعد کا ہو۔ دوم یہ بھی ممکن ہے کہ گیریٹ نے اس واقعے کو تاریخ میں درج کرنے کے لائق نہ جانا ہو۔ گیریٹ کے معروضی مزاج کو دیکھتے ہوئے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ موضوعی (Subjective) واقعات کو چنداں اہمیت نہ دیتے تھے۔
اداریے میں جی سی کی جوبلی کا ذکر بھی ہے (The jubilee is yet a long distance off)۔ ظاہر ہے، اداریہ مارچ 1914 میں لکھا گیا۔ اس حساب سے جی سی اپنی گولڈن جوبلی منا چکا ہو گا۔ سوال یہ ہے، ادارے میں جس جوبلی کے دور ہونے کا مذکور ہے، کیا وہ ڈائمنڈ جوبلی (ستر سالہ) ہے؟ یہ بات خارج از امکان ہے کہ بیس سال بعد کی جوبلی زیر بحث لائی جا رہی ہو۔ ممکن ہے گولڈن جوبلی کچھ مہینوں کے تاخیر سے منائی ہو، واللہ اعلم۔ بہر صورت اداریے کے آخر میں امکان ظاہر کیا گیا ہے، شاید کالج کا نام کی مہم حتمی و مقبول نہ سکے۔ اس کی وجہ قدامت پسند طلباء کے با وزن دلائل قرار دی گئی ہے۔
جون 1914ء کے راوی (اگلے ہی نمبر) میں گرو دت سوندھی کا مدیر کے نام اس عدم تبدیلی کے خلاف ایک دل چسپ اور شکوہ کناں خط شامل ہے۔ واضح ہو کہ جی ڈی سوندھی اس وقت تک گورنمنٹ کالج میں تدریس سے وابستہ نہیں ہوئے تھے۔ سوندھی صاحب نے نام کی تبدیلی کے اقل (Minimum) امکان کو مایوس کن قرار دیا اور لکھا :
I was at the college for over six years and have a considerable number of associations with it but no number of associations will blind me to the ugliness of the name “Government College”.
(میں چھ برس سے زائد عرصے تک کالج میں رہا۔ میری بہت سی یادیں اور وابستگیاں کالج سے منسلک ہیں، لیکن کوئی بھی وابستگی مجھے ”گورنمنٹ کالج“ نام کی کم صورتی کے حوالے سے اندھا نہیں کر سکتی۔)
مدیر کی جانب سے سوندھی صاحب کے سخت الفاظ پر مبنی اس خط کو راوی ہی میں شائع کرنا، مدیر اور ادارے کے اعلی ظرف اور وسیع المشربی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خط کے آخر میں سوندھی صاحب کا یہ نکتہ کہ کالج کسی بھی پرانے طالب علم سے زیادہ نئے طلباء کی ملکیت ہوتا ہے، نہایت ترقی پسندانہ (Progressive) اور لطیف ہے :
نکتہ دامانِ رفتہ کہ نہ کہو
بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
(میر)
خط کے آخری الفاظ بھی کچھ کم تلخ نہیں:
The plea that a change in the name of the college will injure some peoples’ associations is on par with saying, that, a rose with another name will stink.
(یہ دلیل کہ کالج کے نام میں تبدیلی سے کچھ لوگوں کی وابستگیاں مجروح ہوں گی، بالکل ایسی ہے جیسے یہ کہنا کہ گلاب کو اگر کسی دیگر نام سے پکارا جائے تو وہ بو دینے لگے گا۔)
راوی میں دونوں آراء کو سامنے رکھنے سے ثابت ہوتا ہے، کالج میں ہر دو طرح کے طلباء کی تعداد قابلِ لحاظ تھی۔ اعلیٰ حکام (جن میں اہم ترین گورنر [سر مائیکل فرانسس او ڈائر : 1913ء تا 1919ء] رہے ہوں گے) اور پرنسپل کی جانب سے تحریری رپورٹ سامنے نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تصفیے کو کیوں کر حل کیا گیا۔ قیاس کے طور پر کہا جا سکتا ہے، اگر کالج کا نام کنگز کالج لاہور رکھ دیا جاتا، تو اس بات کو یاد رکھنے کا امکان زیادہ ہوتا کہ کالج کے پہلے، بنیاد گزار، محبوب اور بے مثال پرنسپل گوٹلیب ولہم لائٹنر (1840ء تا 1899ء) Gottlieb Wilhelm Leitner لاہور آنے سے قبل کنگز کالج لندن میں عربی اور محمڈن لا کے پروفیسر تھے۔ لائٹنر صف اول کے وہ عالم ہیں جن کے نام کے بغیر گورنمنٹ کالج لاہور کے وجود کے علاوہ اسکا استحکام بھی مشکوک ٹھہرتا ہے۔

