لاہور کا یوئنگ ہال اور رمیش مودی کی یادداشتیں

یوئنگ ہال (Ewing Hall) [1916ء] لاہور کا ورثہ ہے۔ در و دیوار، اینٹ اور گارے سے بڑھ کر ہوتے ہے۔ پچھلے دنوں، گارڈین کے ایک مضمون میں (جس کی طرف ایک دوست نے توجہ دلائی)، یہ تخلیقی جملہ پڑھا : عمارتیں وہ کم سے کم لباس (Clothing) ہوتی ہیں، جنھیں انسان، آئندہ آنے والی تہذیب کے لیے محفوظ (Fossilized) بنا لیتا ہے۔ اس بات کا احساس ضروری ہے، تاریخی در و دیوار، رفتگاں کے لباس ہیں۔ بے لباسی نامناسب ہے۔
یوئنگ ہال اور نیوٹن ہال (کاش اسے بھی بچا لیا جائے)، عرصے سے میرا رومان ہیں۔ شمال کی طرف ترچھے رخ پر ایستادہ، ائینگ ہال کا چہرہ کیسے کیسے زمانوں کا شاہد ہے، فراق کے مصرعے کا عملی نمونہ :
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں!
پچھلے تین چار سالوں میں لاہور کی تاریخ پر متعدد مضامین اور کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ لاہور سے بچھڑ جانے والوں نے، اس شہرِ خیال کو جس طرح زندہ رکھا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی :
دل و دماغ کو پہرے پہ رکھ دیا ہم نے
ترے خیال کا کتنا خیال رکھتے ہیں
(سعید اکرم)
دو دن سے یوئنگ ہال کی تصویریں دیکھ رہا ہوں۔ خدا اس ورثے کو محفوظ رکھے۔ اچانک حافظے کی باؤلی سے رمیش مودی کے ایک مضمون اور انٹرویو نے سر اٹھایا۔ تین چار برس پہلے پڑھے جانے والے ان تحریروں کی چند یادداشتوں کو محفوظ کر لیا تھا۔ رمیش مودی 1926ء میں پیدا ہوئے۔ وہ آگرہ کالج سے بغرض تعلیم، ستمبر 1944ء میں لاہور آئے۔ مودی نے آگرہ کالج سے گورنمنٹ کالج لاہور کے لیے رختِ سفر باندھا تھا۔ لاہور میں ان کا اولین رفیق اور بدرقہ، پروفیسر ڈاکٹر امداد حسین (جو گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق طالب علم تھے) کا تعارفی خط تھا۔ ڈاکٹر امداد نے یہ خط گورنمنٹ کالج لاہور کے معروف انگریزی کے استاد پروفیسر سراج الدین کے نام ساتھ لکھا تھا۔ پروفیسر سراج الدین نے نوجوان کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ سراج الدین صاحب کے ایک دوست، جو ایف سی میں پڑھاتے تھے، مودی کو ایف سی لے جانے پر مصر ہو گئے۔ پروفیسر سراج الدین یار باش انسان تھے، دوست کے اصرار پر انکار نہ کر سکے۔ یوں مودی جون 1947ء تک ایف سی کے شعبۂ معاشیات سے منسلک رہے۔
ان دنوں یوئنگ ہال، ایف سی کے پوسٹ گریجوئیٹ طلباء کے لیے مختص تھا۔ رمیش مودی کا دارالاقامہ (Hostel) یہی تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
”ان دنوں یوئنگ ہال، لاہور کا واحد ہاسٹل تھا، جس کی لائیبریری اور مطالعہ گاہ (Reading Room) مثالی تھے ۔۔۔ شام کے وقت محکم الدین بیکری کی چائے اور گورنمنٹ کالج لاہور کے سوئمنگ ٹینک میں تیراکی نے ہاسٹل کی زندگی کو جنت بنا رکھا تھا۔ چوں کہ میرا مضمون معاشیات تھا، پروفیسر برج نارائن اور ڈاکٹر درگا پرشاد سے مجلسیں گرم رہتیں۔ ان دونوں کا شمار ہندوستان بھر کے چوٹی کے ماہرین معاشیات میں ہوتا تھا۔ پروفیسر برج نارائن(جنہیں تقسیم کے موقع پر لاہور میں گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا گیا) سناتن دھرم کالج لاہور (SDC) کے پرنسپل تھے۔ ڈاکٹر درگا پرشاد گورنمنٹ کالج کے مایہ ناز پروفیسر تھے۔ میں شام کی چائے اکثر ڈاکٹر پرشاد اور پروفیسر سراج الدین کے ہمراہ ہاسپٹل روڈ پر پیا کرتا۔ پروفیسر برج نارائن کئی بار اپنے طلباء کے ہمراہ یوئنگ ہال بھی تشریف لائے۔“
یار رہے اُن دنوں گورنمنٹ کالج لاہور، ایف سی، اور پنجاب یونیورسٹی کے کئی شعبوں کی تدریس مشترک ہوتی تھی۔
تقسیم کے بعد لاہور کے غیر مسلم اساتذہ حافظے کی لوح سے مٹ گئے ہیں۔ در و دیوار اور ان سے منسلک عمارتیں ان کے علم و فضل اور لاہور سے عشق کی آخری نشانیاں ہیں۔
بقول سعدی :
نامِ نیک رفتگاں ضایع مکن
تا بماند نامِ نیکت یادگار
(گزرے ہوئے لوگوں کا نیک نام (ان کی اچھائیاں اور کارنامے) ضائع نہ ہونے دو، کہ تمہارا اچھا نام بھی یادگار رہے۔")


