شہر میں پتنگ بازی کا شہرہ ہے۔ نظریں آسمان پر ہیں اور دل کنکوے پر۔ ہاتھ میں ڈور کا گھچا ہے۔ ڈور بھی کیسی : کٹیلی ہو نہ لچکیلی، چمکیلی ہو نہ گیلی۔ ناک، منہ، گردن کی سنگینی ہے، یارو یہ بسنت کی نمکینی ہے۔
فروری کے پہلے ہفتے آبی کٹورے میں مچھلیاں اُبھریں گی۔ گیروی اور بسنتی ننھی ننھی پریاں! ہوشیار، پریوں کی نمائش سے باز آؤ۔ ایسا نہ ہو کوہِ قاف پہنچ جاؤ۔

ہم سے کبھی کنکوا نہ اُڑا۔ البتہ خیال خوب خوب اُڑائے ہیں۔ اب جو چہار جانب، دو چرخوں پر علَم بلند ہیں، ہماری باؤلی سے بھی تین قصوں نے سر اٹھایا ہے، سنو اور سر دُھنو۔
اول، ہمارے مولوی نذیر احمد کا ہے۔ دنیا انھیں ڈپٹی نذیر کہتی ہے۔ ناول نگار اور منفعت خوار، نیک دل، پاک سیرت نذیر احمد۔ نام ان کا عالم کے جریدے پر ثبت ہے۔ جس کو عظمت کا خبط ہے، آئے اور مولوی صاحب سے پنجہ لڑائے۔ ایک کتاب ایسی بنائی ہے گویا دل کا خون نچوڑ دیا ہے۔ پریشان باوا اماں نچِنت ہو گئے۔ لڑکا پَر پرزے نکالے تو کتاب ہاتھ میں تھماؤ اور فکر مندی سے آزاد ہو جاؤ۔ نام ہے : ”موعظہ حسنہ“۔ بیٹے کے نام خط ہیں.

درد مندی کا عالم نہ پوچھو، سوئی دھاگہ ہاتھ میں لے کر، باریک باریک ٹانکے لگائے ہیں :
سوئی دھاگہ محبت نے دیا تھا
تو کچھ سینہ پرونا چاہیے تھا
پروفیسر آزاد بھی ان خطوں کے عاشق تھے۔ آزاد کی تعریف سند ہے۔
ڈپٹی مرحوم نے ایک خط میں بیٹے کو پتنگ کی رعایت سے کام کا نکتہ سمجھایا ہے۔ بات سچی تھی، دل میں میں بیٹھ گئی، نکتہ نادر تھا دماغ میں اتر گیا:
“طالب یعنی امیدوارِ خدمت کو چاہیے کہ بہ منزلہ کنکوے کے ہو، جس میں پرواز کا مادہ مہیا ہے اور ایک دریائی کا محتاج ہے؛ اسی طرح امیدوار میں مادہ ء لیاقت کا ہونا ضروری ہے کہ سفارش کی ایک دریائی ملی اور اونچا ہوا۔ (۔۔۔۔) صرف دریائی نہیں چاہتے بل کہ چاہتے ہیں کہ دُم چھلے کی طرح میں ان کے ساتھ لٹکا رہوں۔“
دیکھیے دو سطروں میں کیا جادو جگایا ہے، بات کی بات، لغت کا لغت۔
دریائی، کنکوے کو دی جانے والی، جھٹکے والی اُچک کو کہتے ہیں۔ پنجابی کنی بولتے ہیں۔ دم چھلا بھی بدیع ہے۔ پتنگ کی دُم میں بندھی لمبی دھجی، جو کنکوے کا مرکز ثقل (Pivot point) درست رکھتی ہے، دُم چھلا کہلاتی ہے۔
پتنگ کے باقی ماندہ حصوں کے نام کس سے پوچھیے۔ نیّر مسعود اُٹھ گئے کہ راہ سُجھاتے! نیّر مسعود ۔۔۔۔ سبحان اللہ، یہیں سے دوسرے قصے کا آغاز ہوتا ہے۔

نیّر مسعود کا افسانہ اردو دنیا سے کیا، ایک عالم سے داد پا رہا ہے۔ دو برس اُدھر مجھے چند امریکی دانش جوؤں کو نیّر مسعود پڑھانے کا موقع ملا۔ پختہ کار لوگ تھے، دنیا برت رکھی تھے۔ ایسے متاثر ہوئے کہ ایک ایک افسانے کو متعدد بار پڑھنے کی ٹھان لی۔ نیّر مسعود کے فکشن کی ہیبت یا مرموز بے نیازی (Mysterious Nonchalance) پر نظریں جمانے والے ان کے لطیف پہلوؤں سے زیادہ واقف نہیں۔ انیس اشفاق صاحب کا مونو گراف پڑھیے اور حیرت بن جائیے۔ روایت ہے، مشہور انگریزی شاعر کولرج کے مَن میں دو جہانوں کا علم جذب کرنے کی سمائی تھی۔ یہ حسرت تو خیر کیا پوری ہوتی، خود کولرج کی ذات عجوبۂ روزگار بن گئی۔ انگریزی میں اسے Library Cormorant کہتے ہیں۔ اردو میں میرا جی کے بعد، نیر مسعود کو Library Cormorant یا Renaissance Man کہا جا سکتا ہے۔ سات منطقوں کی فلمیں دیکھنا، پلپ ناول پڑھنا، موسیقی سننا، لطیفے جمع کرنا، خطاطی و وصلی سازی، سردی کی راتوں میں سوانگ بھر کر اجنبیوں کو ڈرانا، پراسرار دوائیں بنانا ۔۔۔ اور خدا جانے کیا کیا کچھ۔ ہر بڑے آدمی کی طرح، نقادوں کے بر خلاف، اُن میں بڑے نکتوں کو ضائع کرنے (Burning through) کی استعداد موجود تھی۔ یہ بڑی اہم بات ہے۔ لوگ منضبط محقق اور افسانہ نگار نیر مسعود کو جانتے ہیں، بے مصرف دن گزارنے والے انسان کو نہیں۔ ان کا معاملہ وہی تھا : تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا۔ کتنے شاہکار دنیا تک پہنچے اور کیسے کمال عدم میں جا چھپے۔ سوچنے کا نکتہ یہ ہے، ادب کا کام صرف سنبھالنا نہیں، ڈھنگ سے گنوانا بھی ہے۔ یقین نہیں تو کروچے کو پڑھیے، شاید فلسفی کی بات پر یقین آ جائے۔
صفحۂ معترضہ کے بعد نیر مسعود کی پتنگ بازی سے متعلق انیس اشفاق صاحب کا لکھا پڑھیے :
” نیر مسعود پتنگ لڑانے اور چمٹانے دونوں کے ماہر تھے۔ انہیں پتنگوں کی ساری شکلوں قسموں اور ناپوں (پیسلچی سے آڑے پونتاوے تک) کا علم تھا۔ احمد آباد کے ایک صاحب جو پتنگوں کے بہت شوقین تھے اور نیر مسعود سے جن کی مسلسل مراسلت بھی تھی، انہوں نے ایک بار لکھنو کی پتنگوں کے بارے میں معلوم کرنا چاہا تو نیر مسعود نے ہر طرح کی پتنگ کی بہت عمدہ رنگین تصویر بنا کر پوری ایک کتاب بنا دی۔ پھر اس کتاب کی بہت عمدہ جلد باندھ کر اور اس پر ویکسین کا بہت اچھا سا غلاف چڑھا کر ان صاحب کو تحفہً بھیج دی۔ کتاب پاک کر وہ خوشی سے جھوم اٹھے۔“
کاش جناب انیس اشفاق ان خوش قسمت صاحب کا نام بھی بتلاتے۔ اس کتاب کی کھوج لگانی چاہیے۔ ہاتھ سے بنی تصویریں کیسا خزانہ ہوں گی!
نیر مسعود نے پتنگیں لکھنؤ میں اُڑائیں۔ جان عالم واجد علی شاہ کا لکھنؤ۔ باغ اجڑ گیا لیکن دل نوابی رہے۔ عجیب بات ہے، پتنگ بازی پر اردو میں زیادہ تحریریں دلی اور لکھنؤ کے گرد گھومتی ہیں۔ پنجاب کبھی زیر بحث نہ آیا۔ فرحت اللہ بیگ کا پھول والوں کی سیر، کس نے نہیں پڑھا۔ قلعے والوں اور شہر والوں میں کنکوے بازی شروع ہے۔ تکلیں لڑ رہی ہیں، پھرتی ایسی کہ چکراتی چکراتی مقبرے سے آگے نکل جاتی ہیں۔ سارا آسمان کنکوؤں سے چھپ جاتا ہے۔۔۔ یہ تو ہوئی راجدھانی کی داستان۔ پنجاب میں بسنت کے رنگ دیکھنے ہیں تو پران نول کو پڑھیے۔ یہیں سے تیسرا قصہ شروع ہوتا ہے۔

بیسویں صدی کا دوسرا دہا ہے۔ ذکر ہے نسبت روڈ، لاہور کے رہائشی پران نول کا۔ پران کتاب کے کیڑے ہیں، لیکن آنکھیں کھلی رکھتے ہیں اور دل کشادہ۔ لاہور کی شیفتگی کا یہ عالم ہے، آپ کو ہندوستانی پاکستانی نہیں، لاہوری کہتے ہیں۔ پران نے لکھا ہے، لاہور میں پتنگ بازی ہندوستان بھر سے بازی لے گئی تھی۔ اندرون لاہور کے کئی کوچے پتنگ سازی کے لیے مشہور تھے۔ سوتر منڈی کی پتنگیں اپنی مثال آپ تھیں۔ پہلوان، رتو اور خوشیا نامی گرامی پتنگ ساز تھے۔ پتنگ کے لیے چاریک، لچکیلا اور بھرواں کاغذ برطانیہ سے درآمد کیا جاتا۔ بانسوں کی نرکلوں کو طرح طرح سے لچک دار بنایا جاتا۔ کون سی پتنگ آسمان میں تھگلی لگائے گی اور عرش کی خبریں لائے گی، اس کا انحصار، کاغذ اور نرکلوں پر ہوتا۔ پتنگ کی درجنوں اقسام تھیں، بیسیوں شکلیں۔ پھر حصہ بقدر جثہ کے مصداق، چھوٹی بڑی اور درمیانے حجم کی پتنگیں ہمہ دم موجود رہتیں۔ لاہور کی پتنگوں کا ذکر آنند بخشی نے بھی ”نغمے، قصے، باتیں، یادیں“ میں کیا ہے۔
پتنگ کو اڑانے والی ڈور کا سوت بھی بدیسی ہوتا، جسے طرح طرح کے حربوں اور شیشوں کا پانی پلا کر تیز بنایا جاتا۔ کھلی ہوا میں رکھ کر اوس پلائی جاتی۔ یہ عمل تیزی اور لچک کے لیے آزمودہ تھا۔ ایسی کاٹ دار تیار ہوتی کہ یہاں ڈور پکڑی، وہاں پوروں نے خون دیکھا۔ پتنگ باز، انگلیوں پر خاص وضع کے دستانے چڑھاتے اور اپنی کلا دکھاتے۔ سنگینی اور کاٹ کو ذرا کم کرنے کے واسطے اُبلے ہوئے انڈوں کو ڈور پر ملا جاتا۔ اِدھر انڈوں کی قاشیں بنتی اُدھر دیوانے کھانے کو لپکتے۔ انڈے کی گرمی پتنگ کو مزید اونچا اڑاتی اور سوا پتنگ بناتی۔
پتنگ لڑانے کے اصول معین تھے۔ ہر محلے میں کائیاں پتنگ باز ہوتے۔ پہلے ماحول بنایا جاتا۔ پتنگ پر تول رہی ہے، اوپر چڑھ رہی ہے، چھت گزری، کبوتر خانے گزرے۔ چیل کوے پیچھے رہ گئے۔ سفید بادلوں کے گھروں کی نواح میں اُڑتی پتنگ۔ کیسا لطیف ہنر تھا، زندہ وجود ایک سانس کی لطافت پر ہتھیلی پر ٹکا ہے، ہاتھ پھسلا اور پتنگ جاتی رہی۔ بو کاٹا وہ کاٹا کا شور ہے۔ شہر لاہور ہے۔ اندرون کی چھتوں سے گورنمنٹ کالج کا مینار، بادشاہی مسجد کے گنبد اور آئس فیکٹری کی اونچی چمنی نظر آیا کرتی۔ کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں ۔۔۔
شامیں مچلتی رہیں لیکن چاند ڈھل گئے۔ اب جو شہر میں بسنت آئی ہے، کافی کچھ بدل گیا ہے۔ دیکھیے کیا صورت ہو، خوشی کی کون سی مہورت ہو۔ خیر کا وظیفہ لب پر ہے۔ قصوں کی پٹاری سے تین باتیں آپ کے حوالے۔ جائیے پتنگ خریدیے، لیکن کاغذ اور ڈور کو ڈھنگ سے آنک لیجیے، کہیں یہ آخری بو کاٹا نہ ہو!

